انگلی اٹھانے والے کی انگلی نہ توڑ دوں

کچھ اس طرح سے رخ میں حقائق کا موڑ دوں
ہو واقعہ کہیں کا ، کہیں اور جوڑ دوں
دن بھر وہ میرے ساتھ چلے اور پھر کہے
آ تجھ کو تیرے گھر کی گلی تک تو چھوڑ دوں
چپ چاپ ، الٹی سیدھی ، کسی کی بھی کیوں سہوں
انگلی اٹھانے والے کی انگلی نہ توڑ دوں
دل چاہتا ہے بھاڑ میں جھونکوں ہر ایک خواب
جتنی نشانیاں ہیں وہ سب توڑ پھوڑ دوں
پھوٹیں ترے لبوں سے اذیت شناسیاں
اک زہر- آشنائی رگوں میں نچوڑ دوں
بس ایک کام کر تو ، مرا ہاتھ چھوڑ دے
بدلے میں تجھ کو آج دعائیں کروڑ دوں
کومل جوئیہ

Comments