میں نے اک چراغ بہانا ہے اور بس
میں نے اک چراغ بہانا ہے اور بس
پاگل ہوا نے شور مچانا ہے اور بس
ہیں محض دو قدم پہ خزانے کی چابیاں
رستے میں ایک سانپ کا خانہ ہے اور بس
اک تیر اک نشان کی جانب ہے گامزن
دل نے اب اس نشان پہ جانا ہے اور بس
میرے حساب سے تو یہ دنیا یہ زندگی
اک دلفریب دام ہے ،دانہ ہے اور بس
یہ آگ دشمنوں نے لگانی ہے میرے دوست
توُ نے تو اس پہ تیل گرانا ہے اور بس
اک عکس میری آنکھ سے ہو کر نکل گیا
دل اس کو ڈھونڈنے میں لگانا ہے اور بس
یہ بھائی میری جان کو آ جائیں گے عزیز
تو نے تو اپنا خواب سنانا ہے اور بس
ارشد عزیز
Comments
Post a Comment