آنسو ہیں تری یاد ہے اور خام یہ آنکھیں
آنسو ہیں تری یاد ہے اور خام یہ آنکھیں
گر دید کی ہو تشنگی کس کام یہ آنکھیں
دم بھر کو بھی تو مڑ کے نہیں دیکھا اے جاناں
مدت سے تری راہ پہ ہیں عام یہ آنکھیں
ہر شام کو ہونے لگی ہے شہر میں بارش
چھم چھم ہیں تری یاد میں ہر شام یہ آنکھیں
ساقی تری ہی تاک میں ہیں رند یہ سارے
بنجر نہ کہیں ہو رہیں دو جام یہ آنکھیں
ممکن کہاں تھی تجھ سے مرے یار جدائی
اب ڈھونڈتی ہیں مستقل آرام یہ آنکھیں
عاطف یہ ترا دل تھا کہ بے درد سے ملا
بے کار میں ہی پا گئیں الزام یہ آنکھیں
عاطف سعید
Comments
Post a Comment