ابھی اٹھی ہی تھی آقا کی اک نگاہ کہ بس

ابھی اُٹھی ہی تھی آقاؐ کی اک نگاہ کہ بس
دلوں کے بت کدے ایسے ہوۓ تباہ کہ بس
جلالِ حق کو فقط پاس ِ” اَنت َ فِیھِم “ تھا
وگرنہ ہم نے کیے اِس قدر گناہ کہ بس
نبیؐ کے خاک نشینوں کے آستانے پر
زمین بوس ہیں کچھ ایسے کج کلاہ کہ بس
چلے جو پھیر کے منہ اُنؐ سے، منہ دکھا نہ سکے
ہوۓ وہ ایسے زمانے میں رُوسیاہ کہ بس
برس گیا وہ تو کچھ اُنؐ کے عشق کا بادل
وگرنہ دل کہ تھا وہ دشتِ بے گیاہ کہ بس
یہ سر تھا ، ہم تھے ، وہ شہر ِنبیؐ کی گلیاں تھیں
پھر ایسے ہم نے اُڑایا غبار ِ راہ کہ بس
دراز اُن کے توسل سے جب کیا دامن
پکارتے ہوۓ دیکھے ہیں بھیک خواہ کہ ”بس“
خیالِ شہرِ نبیؐ ! پل دو پل ذرا زحمت
دُکھوں نے گھیر لیا ہے کچھ ایسے آہ کہ بس
حبیبِ حق کا ثناء خواں میں کیا ہوا بسملؔ
جہاں میں ایسے ہوئی میری واہ واہ کہ بس

بسملؔ شہزاد

Comments