سمجھے کون ہمارے دکھ

سمجھے کون ہمارے دکھ
دکھ اور اتنے سارے دکھ
شب بھر باتیں کرتے ہیں
جگنو ، چاند ، ستارے ، دکھ
تم نے خوب خوشی دیکھی
ہم نے خوب سہارے دکھ
سینے سے لگ جاتے ہیں
رات ، تھکن کے مارے دکھ
ہم سے پہلے پھرتے تھے
دہر میں مارے مارے دکھ
گلدستہ بن جاتا ہے
ملتے ہیں جب سارے دکھ

افتخار حیدر

Comments