کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک
آخری بار‛ تیسری دستک
پٹڑیوں میں پھنسا ہوا پاؤں
اور گاڑی کی آپڑی دستک
تم نے چھپنے ہی کب دیا مجھکو
تم نے گنتی نہیں گنی دس تک
سچ میں آنے پہ ہو تم آمادہ ؟
دی گئ ہے کہ ہوگئ دستک
گول کی گول ہی رہی دنیا
پھر وہی در ہے پھر وہی دستک
تینوں دشمن ہیں میرے خوابوں کے
یہ مرے دوست‛ آگہی‛ دستک
پارس مزاری

Comments