چھو نہیں سکتے تری چھت کی کوئی سل ہم لوگ
چھو نہیں سکتے تری چھت کی کوئی سل ہم لوگ
نصف دیوار تک آتے ہیں بمشکل ہم لوگ
اتنی دوری ہے کہ اظہار کا بھی لطف نہیں
کھیلتے رہتے ہیں میسج پہ ہی دل دل ہم لوگ
خالی کوئ بھی محبت سے نہیں حصہ عمر
اس حکومت میں تھے ہر دور میں شامل ہم لوگ
اور کیا چاہیے وابستگی کا تجھکو ثبوت
سہہ تو لیتے ہیں تری روز کی کِل کِل ہم لوگ
شکر ہے خواہشوں کے جسم نہیں ہوتے ہیں
ورنہ کہلاتے کئی جانوں کے قاتل ہم لوگ
پارس مزاری
Comments
Post a Comment