سو اپنا تکیہ گلے سے لگا نہیں رہے ہم
ہمارے جسم کولاحق ہے شرکِ لمس کا خوف
سو اپنا تکیہ گلے سے لگا نہیں رہے ہم
غزل میں اس لیے لائے نہیں تری آنکھیں
ہمیں لگا یہ قوافی نبھا نہیں رہے ہم
اب اس سے اور محبت بھی کتنی سچی ہو
خیالِ کارِ ہوس بھی چھپا نہیں رہے ہم
پارس مزاری
Comments
Post a Comment