ماحول کے مجاور زہریں بنا رہے ہیں
ماحول کے مجاور زہریں بنا رہے ہیں
ہم چھان کر دھوئیں کو سانسیں بنا رہے ہیں
اظہارِ عشق کا ہے جدت طلب زمانہ
اور آپ کم بجٹ کی فلمیں بنا رہے ہیں
ہے سامنے سمندر جو فرق ہو بتانا
ہم کینوس پہ اسکی آنکھیں بنا رہے ہیں
اک سطح پر یہ سائے ساتھی ہیں تیرگی کے
شاخیں تراش کر ہم قلمیں بنا رہے ہیں
پارس ہے کسطرح کا یہ دورِ بے لطافت
کوزے بنانے والے اینٹیں بنا رہے ہیں
پارس مزاری

Comments
Post a Comment