انساں کو اگر فکر سکونت نہیں رہتی

انساں کو اگر فکر  سکونت نہیں رہتی 
جنگل میں درندوں کی حکومت نہیں رہتی



 جاتے ہوئے موسم کی طرح ہوتے ہیں کچھ لوگ 
گھر میں کئی اشیا کی  ضرورت نہیں رہتی
اس پائے کے زاہد نظر آئے ہیں صفوں میں 
لگتا ہے کہ اب میری امامت نہیں رہتی
بیٹھا رہوں چپ چاپ تو گاہک نہیں آتے 
آواز لگاتا ہوں تو قیمت نہیں رہتی
تیارئ منزل میں گزرتا ہے پڑاؤ
پوشاک بدلنے کی بھی فرصت نہیں رہتی
اظہر فراغ

Comments