غرض کیا اس سے تو مسلم ہے یا کافر ، مسافر

غرض کیا اس سے تو مسلم ہے یا کافر ‛مسافر

میں پانی لے کے آیا ہوں تری خاطر مسافر

 مرے شانے مرے بازو بھی تیرے میں بھی تیرا

مرے ہوتے ہوئے مت لڑ کھڑا کے گر مسافر

معطل کر سفر کو اور پلٹ جا اپنی بستی

تو سیدھا سادہ اور دنیا بڑی شاطر مسافر

اسے بارش کا قطرہ بھی کمک محسوس ہو گا

اگر صحراؤں کے لشکر میں جائے گھر مسافر

یہی ہے زندگانی کی کہانی کا خلاصہ

چلا ؛ چلتا رہا اور تھک گیا آخر مسافر

تجھے سمجھا رہا ہوں راستوں کی نذر مت کر

نہیں ہے اس قدر بھی زندگی وافر مسافر

یہ چھالے تیری معذوری کا پہلا مرحلہ ہیں

ترے پاؤں نے جھڑ جانا ہے بالآخر مسافر

راکب مختار

Comments