یہ کیا ہے خوبی کہ خامی مگر مکرتا نہیں
یہ کیا ہے، خوبی کہ خامی مگر مُکرتا نہیں
میں پیار کرتا ہوں چہروں سے اُن پہ مرتا نہیں
خمارِ زیست سے رب کی پناہ مانگتا ہوں
یہ نشہ وہ ہے جو مرنے تلک اُترتا نہیں
کچھ اس لئے بھی مرے دُشمنوں کی کثرت ہے
کہ میں خدا کے علاوہ کسی سے ڈرتا نہیں
تھکن سے لے کے مدد سو تو جاؤں گا لیکن
کوئ بھی خواب مری نیند سے گزرتا نہیں
بچھڑ کے تجھ سے اگر سانس لے رہا ہوں میں
تو پھر یہ طے ہے کہ مرنے سے کوئی مرتا نہیں
اُسی کو کھینچنا ہوں گے مرے بدن سے تیر
جو میرے جسم کے سائے پہ پاؤں دھرتا نہیں
راکب مختار
Comments
Post a Comment