شکوے نہ کیا کر پس دیوار ہمارے
شکوے نہ کیا کر پس دیوار ہمارے
پہلے بھی بہت سے ہیں وفادار ہمارے
اس شہر میں جو میٹھی زباں بول رہے ہیں
یہ لوگ ہیں در اصل نمک خوار ہمارے
ہم اب بھی مدینے میں انہیں ڈھونڈ رہے ہیں
لوٹے ہی نہیں جنگ سے سردار ہمارے
مقبول دعائیں بھی رکھیں زاد سفر میں
ماؤں نے کئے قافلے تیار ہمارے
ائے ہجرٍ خوش اخلاق انہیں چھوڑ نہ جانا
اب تیرے حوالے لب و رخسار ہمارے
کم ظرف پہ کیوں خرچ کریں ؛کس لئے بولیں
یہ لفظ تو ہیں درہم و دینار ہمارے
بازار میں بکنے کو پڑے سوچ رہے ہیں
ہوتے تھے کبھی شہر میں بازار ہمارے
ہم آگ سے لوگوں کو بچاتے رہے لیکن
اس جرم میں گھر ہو گئے مسمار ہمارے
راکب مختار

Comments
Post a Comment