بات کرنی کوئی درباری نہيں آتی مجھے

بات کرنی کوئی درباری نہيں آتی مجھے
شعر کہہ لیتاہوں فن کاری نہيں آتی مجھے

میں نے اشکوں سے نمودار کیا جنگل کو
لوگ کہتے تھے شجرکاری نہیں آتی مجھے

جس طرح تُو نے مرے ساتھ بغاوت کی ہے
اے محبت یہ طرحداری نہيں آتی مجھے

میں نہ کہتا تھا مجھے مر کے دکھاؤ پہلے
زندہ لاشوں پہ عزاداری نہيں آتی مجھے

جس جگہ میرے شب و روز بسر ہوتے تھے
اب تو اُس گھر سے بھی افطاری نہیں آتی مجھے

میں نے رو رو کے منا ہی لیا آخر اُس کو
وہ سمجھتا تھا اداکاری نہيں آتی مجھے

جس قدر آتی ہے اِک اُردو زباں آتی ہے
اور یہ بات کہ بازاری نہيں آتی مجھے

یار کا یار ہوں ' دشمن کا ہوں دشمن عامی
برملا کہتا ہوں غداری نہيں آتی مجھے

عمران عامی

Comments