رشوت نہيں انعام سے مشہور ہوا ہے
رشوت نہيں ، انعام سے مشہور ہوا ہے
دیوانہ کسی کام سے مشہور ہوا ہے
اب وہ بھی یہ کہتا ہے کہ تُو کون ہے، کیا ہے
جو شخص مرے نام سے مشہور ہوا ہے
یہ کس کو پتا ، کتنے برس کھا گیا میرے
وہ شعر جو اِلہام سے مشہور ہوا ہے
پہلے تو فقط حُسن کے چرچے تھے محل میں
لیکن وہ جو الزام سے مشہور ہوا ہے
کیا تُو نے اُسے رات میں مرتے نہيں دیکھا
وہ دن جو یہاں شام سے مشہور ہوا ہے
شاعر ہو ' پیمبر ہو ، وہ جُوگی ہو کہ یَوگی
جو خاص ہے ، وہ عام سے مشہور ہوا ہے
کچھ لوگ مرے دل میں ہوئے دفن تو ، عامی
یہ مِصر بھی اہرام سے مشہور ہوا ہے
عمران عامی

Comments
Post a Comment