کام سے نام بنانا ہے چلے جانا ہے
کام سے نام بنانا ہے چلے جانا ہے
زندگی ایک بہانہ ہے چلے جانا ہے
اب کے لانا ہے نشانے پہ تری دُنیا کو
آخری تیر چلانا ہے چلے جانا ہے
سفرِ عشق پہ ہونا ہے روانہ اِک دن
چلے جانا، چلے جانا ہے چلے جانا ہے
وہ کوئی اور علاقہ ہے ٹھہرنا ہے جہاں
یہ کوئی اور ٹھکانہ ہے چلے جانا ہے
مستقل دل میں رہائش کی نہيں گنجائش
اب وہ آئے جسے آنا ہے چلے جانا ہے
بولنے کی بھی اجازت ہے مگر محفل میں
ہم نے چپ رہ کے دکھانا ہے چلے جانا ہے
جب ترا حکم ہوا خانہ بدوشوں کی طرح
سر پہ گھر بار اُٹھانا ہے چلے جانا ہے
پہلے رُکنا ہے کسی شہر میں وحشت کےلئے
اور اِک عشق کمانا ہے چلے جانا ہے
آئنہ آج بھی حیرت سے مجھے دیکھتاہے
اِس کو حیرت سے بچانا ہے چلے جانا ہے
شاعری کوئی تماشا تو نہیں ہے عامی
جو ہمیں کرکے دِکھانا ہے چلے جانا ہے
عمران عامی

Comments
Post a Comment