ناؤ میں چھید کیے پار نہيں ہونے دیا

ناؤ میں چھید کِیے ،  پار نہيں ہونے دیا 
میں نے دریا کو گرفتار نہيں ہونے دیا



 اَیرے غیرے کو ٹھہرنے کی اجازت نہيں دی 
دل کو دل رکھا ہے بازار نہيں ہونے دیا
ورنہ یہ عشق سہولت سے کہاں ہونا تھا 
ایک پاگل نے سمجھ دار نہيں ہونے دیا
میں نے شہرت کےلیے مِنت ِ دُنیا نہيں کی 
اِس قدر ذہن کو بیمار نہيں ہونے دیا
شعر کہنے کی طلب نے مجھے توڑے رکھا 
اور اِسی شوق نے مسمار نہيں ہونے دیا
کیسے کیسے پَری چہرہ تھے مرے سامنے اور 
اپنی آنکھوں کو گنہ گار نہيں ہونے دیا
تُو فقیروں کے کسی کام کا پہلے ہی نہيں 
اِس لیے بھی تجھے بےکار نہيں ہونے دیا
ورنہ تُو کیا تری اوقات ہے کیا ، جانتے ہیں 
شُکر کر لہجے کو تلوار نہيں ہونے دیا
میں نے اُس شخص کو کیا دل سے اُتارا ، عامی 
پھر قبیلے نے بھی سردار نہيں ہونے دیا

عمران عامی

Comments