بوند بھر حدت جو باقی دل کی چنگاری میں ہے

بُوند بھر حِدّت جو باقی دِل کی چِنگاری میں ہے
قطرہ قطرہ خُون کا، آندھی کی تیّاری میں ہے
رقصِ بِسمل کا تو مکّاری میں ہوتا ہے شُمار
آپ کا خنجر چلانا بھی طرح داری میں ہے
ریت کا ہر ذرّہ، میرا ہم سفر ہے دشت میں
جو بھی کانٹا ہے، مِرے چھالوں کی غم خواری میں ہے
بَج رہے ہیں سارے ہمسایوں کے گھر میں جَلترنگ
اور اِک سیلاب، میری چاردِیواری میں ہے
تم بھی کرسکتے ہو دِل پر چوٹ کھا کر تجربہ
اے مسِیحاؤ ! مجھے آرام بیماری میں ہے
کوئی بھی چلنے پہ آمادہ نظر آتا نہیں !
کارواں کا کارواں مصرُوف سالاری میں ہے



 شعر کہتا ہے مظفّر، داد سے بیگانہ وار
پَھل میں وہ لذّت کہاں ہے جو شجر کاری میں ہے
مظفر حنفی

Comments