جہان لفظ و معانی میں دن گزر رہے ہیں

جہانِ لفظ و معانی میں دن گزر رہے ہیں
کہ مچھلیوں کے تو پانی میں دن گزر رہے ہیں

رہیں گے کیسے اگر مل گیا ٹھکانہ کوئی
ابھی تو نقل مکانی میں دن گزر رہے ہیں

رکی ہوئی ہے یہ چوپال قصہ گو کے لئے
کھڑے ہیں لوگ کہانی میں دن گزر رہے ہیں

تراشِ مصرع اولی ہے زینتِ قرطاس
تلاشِ مصرع ثانی میں دن گزر رہے ہیں

بہائے جاتا ہے یہ وقت ہم کو ساتھ اپنے
گزر رہے ہیں روانی میں دن گزر رہے ہیں

علم کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے سینے پر
فریبِ اشک فشانی میں دن گزر رہے ہیں

ہزار راہ سے ہو کر کہیں پہنچنا تھا
طرح طرح کی گرانی میں دن گزر رہے ہیں

کسی کو ہونٹ ہلانے کا بھی نہیں یارا
کسی کے شعلہ بیانی میں دن گزر رہے ہیں

وہ دھوپ اب بھی سنبھالی ہوئی ہے آزر نے
گئے دنوں کی نشانی میں دن گزر رہے ہیں

دلاور علی آزر

Comments