اپنی انا کو مار آئے ہیں

اپنی انا کو مار آئے ہیں
مشکل وقت گزار آئے ہیں
دل جیسی کار آمد شے بھی
ہم بے کار میں ہار آئے ہیں
ایک ہی پھول تھا اس ٹہنی پر
وہ بھی اُس پہ وار آئے ہیں
کچھ توروشنی پھیلے گھر میں
ثابت ہو سیار آئے ہیں
ہارنے والے جیت نہ پائے
جیتنے والے ہار آئے ہیں
کیوں نہ پھول کھلیں صحرا میں
دیکھ مرے سرکار آئے ہیں
مشکل میں ناکامی والے
کام وہی کردار آئے ہیں
ہم نے بنا وہ رکھی زہراء
جس پہ در و دیوار آئے ہیں
زہراء بتول

Comments