ترک مدعا کر دے عین مدعا ہو جا

ترک مدّعا کر دے، عین مدّعا ہو جا

شان عبد پیدا کر، مظہر خدا ہو جا



اس کی راہ میں مٹ کر بے نیاز خلقت بن

حسن پر فدا ہو کر حسن کی ادا ہو جا

برگ گل کے دامن پر رنگ بن کے جمنا کیا

اس فضائے گلشن میں موجۂ صبا ہو جا

تو ہے جب پیام اس کا پھر پیام کیا تیرا

تو ہے جب صدا اس کی، آپ بے صدا ہو جا

آدمی نہیں سنتا آدمی کی با توں کو

پیکر عمل بن کر غیب کی صدا ہو جا

ساز دل کے پردوں کو خود وہ چھیڑتا ہو جب

جان مضطرب بن کر تو بھی لب کشا ہو جا

قطرۂ تنک مایہ ! بحر بے کراں ہے تو

اپنی ابتدا ہو کر اپنی انتہا ہو جا
اصغر گونڈوی

Comments