اب کسی کے بھی اشارے میں نہیں آئیں گے
اب کسی کے بھی اشارے میں نہیں آئیں گے
ہم محبت کے خسارے میں نہیں آئیں گے
ہم کو درکار ترا ساتھ مکمل ہو گا
ہم یہ جز وقتی سہارے میں نہیں آئیں گے
اب بھی آئیں گے مرے شعر محبت والے
ہاں مگر آپ کے بارے میں نہیں آئیں گے
آپ جو رد ِبلا کا بھی وظیفہ کر لو
ہم وہ جادو ہیں اتارے میں نہیں آئیں گے
اب کوئی حکم نہیں چلنا ترا ، ذہن میں رکھ
زندگی ! تیرے اجارے میں نہیں آئیں گے
ہم تری رات کی تاریکی میں جل سکتے ہیں
صبح ِدم ٹوٹے ستارے میں نہیں آئیں گے
آٹھواں رنگ ابھاریں گے اداسی سے زبیر
کسی بے رنگ نظارے میں نہیں آئیں گے
زبیر قیصر
Comments
Post a Comment