جاتے جاتے یہ کر گیا دریا

جاتے جاتے یہ کر گیا دریا
ہم کو مٹی سے بَھر گیا دریا

داستاں چھوڑ کر تباہی کی
بستیوں سے گُزر گیا دریا

چند دریاؤں جیسے لوگوں کی
جان لے کر اُتر گیا دریا

ایسی بارش ہوئی اندھیرے کی
روشنائی سے بَھر گیا دریا

میں سمندر مثال تھا شاید
میرے اندر اُتر گیا دریا

چشمِ پُر آب تک تو دیکھا تھا
پھر نہ جانے کدھر گیا دریا

کچھ پرندوں کا شور تھا اتنا
کچھ درختوں سے ڈر گیا دریا

تا سمندر تھا وعدہ چلنے کا
راستے میں مکر گیا دریا

ناؤ لے کر جدھر گئیں موجیں
پیچھے پیچھے اُدھر گیا دریا

جانے کیا دُشمنی گھڑے سے تھی
دیکھتے ہی بپھر گیا دریا

ڈوبنے سے تو بچ گیا ناصرؔ
آ کے کشتی میں مر گیا دریا

نصیر احمد ناصر

Comments