میرے سر پر سوار تھوڑی ہے
میرے سر پر سوار تھوڑی ہے
ایک دشمن ہے یار تھوڑی ہے
اک تناسب سے مجھ کو ملتا ہے
رزق ہے ماں کا پیار تھوڑی ہے
سر جھکا کر نہیں اُٹھا کر مانگ
یہ ہے مسجد مزار تھوڑی ہے
یار اِس دل کو کون دیکھتا ہے
کوئی کوٹھی یا کار تھوڑی ہے
تم کو ظاھر ہے لوگ دیکھیں گے
خواب پر اختیار تھوڑی ہے
چھوڑ کر مجھ کو جا بھی سکتا ہے
یار ہے یارِ غار تھوڑی ہے
تجھ سے پہلے جو وقت گزرا تھا
زندگی میں شمار تھوڑی ہے
پھول آئے ہیں تیرے آنے سے
ورنا موسم بہار تھوڑی ہ
دیکھ جنت ہے ماں کے قدموں میں
آسمانوں کے پار تھوڑی ہے
مسئلہ ہے کوئی بصارت میں
آئینے پر غبار تھوڑی ہے
عشق میں اک قرار تھا لیکن
عشق اب برقرار تھوڑی ہے
میرا ہمدرد ایک میں ہی ہوں
کوئی لمبی قطار تھوڑی ہے
ندیم راجہ
Comments
Post a Comment