شہزادی نے کھیل ادھورا چھوڑ دیا ہے

‎شہزادی نے کھیل ادھورا چھوڑ دیا ہے
‎طوطا رکھ کر خالی پنجرہ چھوڑ دیا ہے
‎جھونک دیا ہے آگ میں سارا بھیگا منظر
‎اُن ہاتھوں میں اپنا چہرا چھوڑ دیا ہے
‎مان لیا ہے جو بھی ہے تقدیر کا لکّھا
‎میں نے خدا سے شکوہ کرنا چھوڑ دیا ہے
‎موت کے ڈر سے ڈرتے ڈرتے مر جائیں گے
‎بس یہ سوچ کے ہم نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے
‎چھوڑ دیا ہے رنگوں نے بھی کھِلنا مجھ پر
‎میں نے بھی درپن سے ملنا چھوڑ دیا ہے
‎کون جلائے روز چتا اپنے خوابوں کی
‎سر تیرے سینے پہ رکھنا چھوڑ دیا ہے
‎پلیٹ فارم پر یاد کے خالی بینچ پہ میں نے
‎ارمانوں کا کالا بکسا چھوڑ دیا ہے
‎چار مہینے دس دن ہوگئے اک لڑکی نے
‎کاجل ،مہندی ، چوڑی ، کنگنا چھوڑ دیا ہے

انجیل صحیفہ

Comments