طناب خیمہ جاں ٹوٹنے ہی والی ہے
طناب خیمہ جاں ٹوٹنے ہی والی ہے
سو دشت شوق بھی خوش منظری سے خالی ہے
بچھڑنے والوں سے آباد ہے خرابۂ دل
اگرچہ بستی انھوں نے الگ بسالی ہے
رہوگے ٹھیک تو گل چہرے مل سکیں گے بہت
کسی کے ہجر میں یہ شکل کیا بنالی ہے
ہمیں کسی سے کبھی کوئی واسطہ کب تھا
ہمارے ذہن میں تصویر اک خیالی ہے
ذرا سی دیر میں سچ جھوٹ، جھوٹ سچ ہوجائے
یہی بجا ہے کہ دنیا بہت نرالی
تمام کوفہ و بغداد استعارے ہیں
منافقت میں تو یہ شہر بھی مثالی ہے
اسعد بدایونی
Comments
Post a Comment