ترا چراغ مرا دل بجھانا چاہتے ہیں
ترا چراغ ، مرا دل بجھانا چاہتے ہیں
ہوا کے ہاتھ کرشمے دکھانا چاہتے ہیں
جبھی تو ڈھیر لگائے ہیں سنگ ریزوں کے
ہمیں یہ اہلِ خرد آزمانا چاہتے ہیں
وہی زمین سمندر کی ہوتی جاتی ہے
کہ ہم جہاں بھی کوئی گھر بنانا چاہتے ہیں
سمیٹ لو تو یہ منظر ہیں ایک لمحے کے
جو طول دو تو یقیناًزمانہ چاہتے ہیں
ہمارا دل کہ تمہارا غرورِ تشنہ لبی!
تمام تیر ستم اک نشانہ چاہتے ہیں
ہمیں پتہ ہے کہ ترسیں گے عکس کو اپنے
وہ سارے لوگ جو آئینہ خانہ چاہتے ہیں
ہمیں سے رکھتے ہیں پرخاش بھی عداوت بھی
ہمیں سے اہل جہاں دوستانہ چاہتے ہیں
اسعد بدایونی

Comments
Post a Comment