ابھی دریچہ دل سے ہوا ہے کتنی دور

ابھی دریچہ دل سے ہوا ہے کتنی دور
وہ لمسِ خواب وہ آوازِ پا ہے کتنی دور

میں کس مقام پہ ہوں اے محیطِ تنہائی
یہاں سے منزلِ صبرورضا ہے کتنی دور

تمام دشت میں ظلمت کے شامیانے ہیں
نزولِ صبح ترا قافلہ ہے کتنی دور

جہاں ہواکا گزر ہے نہ تتلیوں کاہجوم
عجیب پھول ہے جاکر کھلا ہے کتنی دور

جوسوچئے توہیں ان دوریوں میں ربط کے رنگ
جو دیکھئے توزمیں سے گھٹا ہے کتنی دور
اسعد بدایونی

Comments