وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ

وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ
چھائوں لگتی تھی رہگذار کی دھوپ



وہ کھلی کھڑکیاں مکانوں کی
دو پہر میں وہ کوے یار کی دھوپ

کنج سورج مکھی کے پھولوں کے
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ سبزہ زار کی دھوپ

یہ بھی اک منظر زمینی ہے
خوف کے سائے گیر و دار کی دھوپ

برف چاروں طرف ہے اور دل میں
گل آئندہ اور بہار کی دھوپ

احمد مشتاق

Comments