ستم شعار نشانے تلاش کرتے ہیں
سِتم شعار، نشانے تلاش کرتے ہیں
کرو گِلہ تو بہانے تلاش کرتے ہیں
نشاطِ قصر نشینی کا تذکرہ نہ کرو
ابھی تو لوگ ٹِھکانے تلاش کرتے ہیں
تُمہاری زُلف کی خاطر بہ اَیں پریشانی
وہ صرف ہم ہیں جو شانے تلاش کرتے ہیں
جنہوں نے خوُد ہی بگاڑا ہے اپنے چہروں کو
وہ لوگ آئینہ خانے تلاش کرتے ہیں
دلِ حزیں تِرے نالوں میں شائقینِ ہُنر
بصد خلوُص ترانے تلاش کرتے ہیں
حقیقتیں کہ ہیں سنگیں، اُنہیں بُھلانے کو
حقیقتوں میں فسانے تلاش کرتے ہیں
کبھی خرابہ نشینوں پہ طنز مت کرنا
یہی تو ہیں جو خزانے تلاش کرتے ہیں
جون ایلیا

Comments
Post a Comment