زندگی ہے تیرے جانے کی قسم

زندگی ہے تیرے جانے کی قَسم
توُ نے کھائی ہے نہ آنے کی قَسم



 بیٹھے بیٹھے مُجھے کیا یاد آیا
کھا گیا تُجھ کو بُھلانے کی قَسم
سچ تو یہ ہے بڑے آرام سے ہُوں
تیرے ہر لحظہ سَتانے کی قَسم
اُڑ گیا رنگ گُلستانوں کا
اس تِرے رنگ جمانے کی قَسم
اِنتظارِ غمِ دوراں کے بقول
زندگی ہے تِرے آنے کی قَسم
بُھول جانے کی مُجھے تُو سوگند
میں تُجھے یاد نہ آنے کی قَسم
تُو بھی اے دوست! تھا کِس عالَم میں
کھا گیا دل نہ دُکھانے کی قَسم
اب ہر اِک یاد مُجھے بُھول گئی
تیرے اِس یاد دِلانے کی قَسم
فراق گورکھپوری

Comments