دیکھنے والے ترے آج بھی بیدار سے ہیں
دیکھنے والے تِرے آج بھی بیدار سے ہیں
آج بھی آنکھ لگائے رَسن و دار سے ہیں
مُدّتیں قید میں گُزریں مگر اب تک صیّاد
ہم اَسیرانِ قفس تازہ گرفتار سے ہیں
کیا کہیں وہ تِرے اقرار کہ اقرار سے تھے
کیا کریں یہ تِرے انکار کہ انکار سے ہیں
کہہ دیا توُ نے جو معصوم تو معصوم ہیں ہم
کہہ دیا توُ نے گنہگار، گنہگار سے ہیں
سرفروشانِ مُحبّت پہ ہیں احسان تِرے
تیرے ہاتھوں یہ سُبکدوش گراں بار سے ہیں
خیر خوش ہو لے اشاراتِ نہاں سے کوئی روز
آشنا ہم بھی کچھ اے دل نِگہِ یار سے ہیں
شکوہء جور و تقاضائے کرم سب بے سُود
کیوں مگر پردہء انکار میں اقرار سے ہیں
وہی ہم ہیں وہی تم ہو وہی دل ہے لیکن
کچھ نہ کچھ سب کے بدلتے ہُوئے آثار سے ہیں
جس کو دُکھنے کی طرح آئے نہ دُکھنا بھی فراقؔ!
تنگ آئے ہُوئے ہم تو دلِ بیمار سے ہیں
فراق گورکھپوری

Comments
Post a Comment