کس کرب میں ہم ہیں یہ بتا بھی نہیں سکتے

کس کرب میں ہم ہیں یہ بتا بھی نہیں سکتے
 اور اپنے مسیحا سے چھپا بھی نہیں سکتے
پیتے ہوئے رہتی ہے سکت ہم میں نہ سُدھ بُدھ
 پیمانہ گرا دیں تو اُٹھا بھی نہیں سکتے
چھوڑا تھا یہیں اس نے ہمیں منتظر اپنا
 ہم اُٹھ کے یہاں سے کہیں جا بھی نہیں سکتے
کیا خاک نشیں سے غرض افلاک نشیں کو
 آ بھی نہیں سکتے وہ بلا بھی نہیں سکتے
سامع ہوں سخن فہم تو پڑھتے ہیں ہم اشعار
 یہ گوہر و الماس لٹا بھی نہیں سکتے
بھجوائی ہے ساقی نے شعورؔ آج بس اتنی
 کل کے لیے تھوڑی سی بچا بھی نہیں سکتے
ﺍﻧﻮﺭ ﺷﻌﻮﺭؔ

Comments