مدینہ و نجف و کربلا میں رہتا ہے

مدینہ و نجف و کربلا میں رہتا ہے
دِل ایک وضع کی آب وہوا میں رہتا ہے





 مرے وجود سے باہر بھی ہے کوئی موجود
جو میرے ساتھ سلام و ثنا میں رہتا ہے
میسّر آتی ہے جس شب قیّام کی توفیق
وہ سارا دِن مرا ،ذکرِ خُدا میں رہتا ہے
غُلامِ بُوذروسلمان دِل ،خُوشی ہوکہ غم
حدودِ زاویہ ھل اتٰی میں رہتا ہے
درود پہلے بھی پڑھتا ہوں اور بعد میں بھی
اسی لئے تو اثر بھی دُعا میں رہتا ہے
نِکل رہی ہے پھر اِک بار حاضری کی سبِیل
سوکُچھ دِنوں سے دِل اپنی ہوا میں رہتا ہے
افتخار عارف

Comments