یا ہوا ہی اڑا کے لے جائے
یا ہوا ہی اڑا کے لے جائے
یا میں جس کی ہوں آ کے لے جائے
میں ہوں مٹی، تو کس زمیں کی ہوں
کوئی اتنا بتا کے لے جائے
بازؤں میں سمیٹ لے مجھ کو
کاش دریا بہا کے لے جائے
ہے اگر خوف اس کو دنیا کا
مجھ کو مجھ سے چرا کے لے جائے
خواب بیٹھے ہیں میرے سرہانے
نیند سے کہہ دو آ کے لے جائے
میگی اسنانی
Comments
Post a Comment