ترے گماں کو مکان کر کے میں سو رہا تھا
ترے گماں کو مکان کر کے میں سو رہا تھا
یوں دھوپ کو سائبان کر کے میں سو رہا تھا
میں جاگرتی کی عجب عجب منزلوں سے گزرا
کہ رات جب تیرا دھیان کر کے میں سو رہا تھا
زمین اور آسماں کے جھگڑوں میں کون پڑتا
سو خود کو اک درمیان کر کے میں سو رہا تھا
تری صداؤں پہ تھا مکمل یقین مجھ کو
ہواؤں کو بادبان کر کے میں سو رہا تھا
خوشی کی جن منزلوں سے اب میں گزر رہا ہوں
یہ طے ہے دکھ کا ندان کر کے میں سو رہا تھا
نیاز مندی سے جاگرتی کو ہوا میں حاصل
خوشی خوشی جی کو دان کر کے میں سو رہا تھا
مہندر کمار ثانی
Comments
Post a Comment