پتہ ہے کندھوں سے اک دن فرشتے اڑ جائینگے

پتہ ہے , کندھوں سے اک دن فرشتے اڑ جائینگے
مگر یہ دکھ ہے کہ مایوس ہو کے اڑ جائینگے
تری منڈیر پہ کب تک سہیں گے فاقہ کشی
ہم ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے اڑ جائینگے
سکوں سے رہنے دیں , کس نے ہمیشہ رہنا ہے
سب اپنے بچوں کو اڑنا سکھا کے اڑ جائینگے
شکاریوں کی مہارت پہ شک نہیں ہے مگر
پرندے تیر اٹھانے سے پہلے اڑ جائینگے
ابھی تو حبس پہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں
ہوا چلے گی تو ان سب کے طوطے اڑ جائینگے
میں آج اکیلا ہوں, پستول بھی ہے, دکھ بھی ہے
تمہارے باغ میں بیٹھے پرندے اڑ جائینگے
ڈرانے والو ! ہمیں دیکھنے کو ترسو گے
کبھی نہ لوٹیں گے اک روز ایسے اڑ جائینگے
افکار علوی

Comments