بالکل تم سا اور تمھارا لگتا ہوں
بالکل تم سا اور تمھارا لگتا ہوں
کبھی کبھی میں خود کو پیارا لگتا ہوں
ایک نظر اُس حور نے مجھ کو دیکھا تھا
خود کو میں اب ایک ستارا لگتا ہوں
اُس کے دل کی بات ہے لیکن اچھا تو
میں اُس کو سارے کا سارا لگتا ہوں
شاید میری جیت اِسی میں ہوتی ہے
اُس کے آگے ہارا ہارا لگتا ہوں
ہاتھ پکڑ کر ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے
لوگوں میں جب میں بے چارا لگتا ہوں
جتنا آپ جتاتے ہیں ہر میسیج میں
کیا میں آپ کو اتنا پیارا لگتا ہوں؟
میرا شعر چرا کر تم نے شعر کہا
اب تو میں استاد تمہارا لگتا ہوں
ڈاکٹر فخر عباس
Comments
Post a Comment