باپ کے شانے سے اترا پا پیادہ چل پڑا
باپ کے شانے سے اترا پا پیادہ چل پڑا
تخت سے کر کے کنارہ شاہزادہ چل پڑا
لوگ اجڑی بستیوں کو دیکھنے آنے لگے
رونقیں قائم ہوئیں، ویران جادہ چل پڑا
اختیار و جبر کے ما بین رکّھا ہوں جناب
رُک گیا مرضی مطابق، بے ارادہ چل پڑا
بد دماغا ، بے چراغا ، بے دلا ، آتِش مزاج
دشت کی جانب براہِ استفادہ چل پڑا
شیشہء نو میں پرانی آگ دُہرائی گئی
اک ہجوم تشنگانِ جام و بادہ چل پڑا
کب میانے کی صدا دی، بگّھیاں مانگی کہاں
پوٹلی کاندھے پہ رکھی، خاک زادہ چل پڑا
احمد جہانگیر
Comments
Post a Comment