اک دوست ہے سو وہ بھی بہت بددماغ ہے

اک دوست ہے سو وہ بھی بہت بددماغ ہے
مجھ آئنے کے سامنے خستہ چراغ ہے
پانی کا کوئی رنگ تو ہوتا نہیں جناب!
یہ آپ کے بدن کی کرامت کا داغ ہے
سسکارنے میں ایسی سہولت کہ پوچھ مت
سینہ نہیں ہے تازہ گلابوں کا باغ ہے
دن ڈھل رہا ہے اور کوئی آ نہیں رہا
اجڑی پڑی منڑیر پہ دل ہے کہ زاغ ہے
برتن سنبھالیے کہ چھلکنے کو ہے وہ آنکھ
اپنا تو خیر ٹوٹتا جھڑتا ایاغ ہے
یہ جسم ہے اور آنکھ میں رہتا ہے دیر تک
یہ خواب ہے سو نیند کا پہلا سراغ ہے
علی زیرک

Comments