سب یہ تو مانتے ہیں کہ دل کی بری نہیں

سب یہ تو مانتے ہیں کہ دل کی بُری نہیں

لیکن وہ کچھ بھی کہتے ہوئے سوچتی نہیں



اُس کا خدا کی ذات پہ کامل یقین ہے 

ویسے وہ دیکھنے میں بہت مذہبی نہیں

ورنہ تو دشت چھوڑ کے چل ہی دیا تھا میں 

مجنوں پکار اٹھا کہ نہیں مرشدی نہیں

کوئی نہیں کہ جس کے گلے لگ کے روئیے

سالا اَپُن کے گھر میں کوئی پیڑ بھی نہیں

کوئی نہیں کہ جس پہ کیا جائے اعتبار

میں اپنی بات کر رہا ہوں آپ کی نہیں

سنتے ہی جیسے دل کی طنابیں اُکھڑ گئیں

جب بھی کسی نے مجھ سے کہا تم وہی نہیں؟

دنیا کی بے رخی سے نہ ہو اس قدر ملول

جواد اپنے دن بھی پھریں گے ، کوئی نہیں

جواد شیخ

Comments