ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات 

ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات 
کون بیکار یہاں ہے کہ سنے کام کی بات


شمع کی طرح کھڑا سوچ رہا ہے شاعر
صبح کی بات سنائے کہ کہے شام کی بات

ہم غریبوں کو تو عادت ہے جفا سہنے کی 
ڈھونڈہی لیتے ہیں تکلیف میں آرام کی بات 

دھوپ میں خاک اڑا لیتے ہیں سائے کیلئے
پیاس لگتی ہے تو کرتے ہیں مئے وجام کی بات

اب تو ہر سمت اندھیرا ہی نظر آتا ہے
خوب پھیلی ہے تری زلف سیہ فام کی بات 

صبح کے وقت جو کلیوں نے چٹک کر کہدی
بات چھوٹی سی ہے لیکن ہے بڑے کام کی بات 

کوئی کہدے کہ محبت میں برائی کیا ہے
یہ نہ تو کفر کی ہے بات نہ اسلام کی بات

گرچہ احباب نے سر جوڑ کے ڈھونڈا عاجز
نہ ملی میری غزل میں روشِ عام کی بات 

کلیم عاجز​

Comments