بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو تو
بڑی طَلب تھی بڑا اِنتظار، دیکھو تو
بہار لائی ہے کیسی بہار، دیکھو تویہ کیا ہُوا، کہ سلامت نہیں کوئی دامن
چَمن میں پُھول کِھلے ہیں کہ خار، دیکھو تولہُو دِلوں کا چراغوں میں کل بھی جلتا تھا
اور آج بھی، ہے وہی کاروبار دیکھو تویہاں، ہر اِک رَسَن و دار ہی دِکھاتا ہے
عجیب شہر، عَجب شہریار دیکھو تونہ کوئی شانہ بچا ہے، نہ کوئی آئینہ!
دراز دستیٔ گیسُوئے یار، دیکھو توکسی سے پیار نہیں، پھر بھی پیار ہے سب سے!
وہ مستِ حُسن، ہے کیا ہوشیار دیکھو تووہ چُپ بھی بیٹھے ہے، تو ایسا بن کے بیٹھے ہے!
ہر اِک ادا یہ کہے ہے پُکار، دیکھو توابھی تو خُون کا سِندُور ہی لگایا ہے
ابھی کرے ہے وہ کیا کیا سِنگار، دیکھو تواَدا ہَمِیں نے سِکھائی، نَظر ہَمِیں نے دی
ہَمِیں سے آنکھ چُراؤ ہو یار، دیکھو تواَسِیر کر کے ہمیں کیا پِھرے ہے اِتراتا
گلے میں ڈالے وہ پھولوں کا ہار، دیکھو توکلیم عاجزؔ
Comments
Post a Comment