دل کو مشکل ہوا جب اسے دیکھنا

دل کو مشکل ہُوا جب اُسے دیکھنا
آنکھ بولی کہ میرے لیے دیکھنا



 دل میں خواہش کی شاخیں ہُوئیں بے ثمر
گھر میں لُٹتے ہُوئے قافلے دیکھنا
اَشک آنکھوں سے دامن چُھڑانے لگے
ہجرتوں کے نئے سلسلے دیکھنا
گُل کے پنجرے میں جو بے سبب قید ہیں
ان بہاروں کو اُڑتے ہُوئے دیکھنا
ایک چہرے کے جلوے بکھرنے تو دو
پھر یہ ٹُوٹے ہُوئے آئنے دیکھنا
دل کے اوراق میں اور کچھ بھی نہیں
اس نظر کے لِکھے حاشیے دیکھنا
غلام محمد قاصر

Comments