محبت کا جب زور بازار ہو گا

مُحبّت کا جب زور بازار ہو گا
بِکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا
نہ خالی رہے گی مِری جاگہ، گر میں
نہوُں گا تو اندوہِ بسیار ہو گا
یہ منصُور کا خوُنِ ناحق کہ حق تھا
قیامت کو کِس کِس سے خوندار ہو گا
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل
مِلے گا تو صُورت سے بیزار ہو گا
کِھنچے عہدِ خط میں بھی دل تیری جانب
کبھو تو قیامت طرحدار ہو گا
زمیں گیر ہو عِجز سے توُ، کہ اِک دن
یہ دیوار کا سایہ، دیوار ہو گا



 نہ پُوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یہاں
جو ہو گا تو جیسے گُنہگار ہو گا
میر تقی میر

Comments