دیوار قہقہہوں کی ابھی تک ہے درمیاں
دیوار قہقہہوں کی ابھی تک ہے درمیاں
مشکل سے پاسکو گے ہمارا کوئی نشاں
پہچاننے میں ہم بڑی مشکل سے آئے تھے
لوٹ جب اک سفر سے بکھرتے یہاں وہاں
ہم نے کبھی سنا تھا کہیں آس پاس ہیں
کہرے میں اور دھند میں لپٹے ہوئے مکاں
آشفتہ چنگیزی
Comments
Post a Comment