ہر شخص داستانوں میں بکھرا ہوا ملا

ہر شخص داستانوں میں بکھرا ہوا ملا
جس گھر میں بھی گئے کوئی ٹھہرا ہوا ملا



 وہ جس کی جستجو ہمیں لائی یہاں تلک
دریا کی تیز دھار پہ بہتا ہوا ملا
اک قافلہ گیا ہے دفینے تلاشنے
صحرا جرس کی گونج سے سہما ہوا ملا
غم کو سمجھنے والے ہی ناپید ہوگئے
شکوہ ہر ایک شخص یہ کرتا ہوا ملا
آشفتہ چنگیزی

Comments