دل کو بہلانے بہت خواب سہانے آئے

دل کو بہلانے بہت خواب سہانے آئے
تجھ سے بچھڑے تو کئی چہرے منانے آئے
کس سے ملتے کہ اسے دینے کو رکھا کیا تھا
یوں تو رستے میں بہت ٹھور ٹھکانے آئے

آشفتہ چنگیزی

Comments