وحشت دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے

وحشتِ دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے
کس لیے یاد ہمیں بیتے زمانے آئے
دشت خالی ہوئے زنجیر ہوئے دیوانے
تھی خطا اتنی کہ کیوں خاک اڑانے آئے
کیا عجب رسم ہے ، دستوربھی کیا خوب ہے یہ
آگ بھڑکائے کوئی ، کوئی بجھانے آئے
وقت کی بات ہے یہ بھی کہ مکاں خوابوں کا
جس نے تعمیر کیا ہو وہی ڈھانے آئے
کوئی آسان نہیں ترکِ تعلق کرنا
بزمِ اغیار میں یاروں کو بھلانے آئے
نقش کچھ اب بھی سرجادۂ دل باقی ہیں
تیزآندھی سے کہو ان کومٹانے آئے
شہریار

Comments