دیکھتے ہی دیکھتے ہر شئے یہاں فانی ہوئی

دیکھتے ہی دیکھتے ہر شئے یہاں فانی ہوئی
لمحۂ آئندہ کو کتنی پشیمانی ہوئی
لوگ کہتے ہیں کہ کل یہ شہر بھی آباد تھے
حکمراں کب اور کیسے ان پہ ویرانی ہوئی
معجزوں کی منتظر آنکھیں رہیں شام وسحر
اس زمانے میں ہمیں سے بس یہ نادانی ہوئی
تم کو اس بے بادباں کشتی پہ کتنا ناز ہے
وہ اُدھر دیکھو ندی کچھ اور طوفانی ہوئی
ہر قدم پر موڑ تھے، ہر موڑ پر منظر نئے
عمر کی اک ایک ساعت صرفِ حیرانی ہوئی

شہریار

Comments